سورۃ لقمان
وَإِذَا غَشِيَهُم مَّوْجٌ كَٱلظُّلَلِ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمْ إِلَى ٱلْبَرِّ فَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِـَٔايَـٰتِنَآ إِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُورٍ
Wa iżā gasyiyahum maujun kaẓ-ẓulali da‘awullāha mukhliṣīna lahud-dīn(a), falammā najjāhum ilal-barri faminhum muqtaṣid(un), wa mā yajḥadu bi'āyātinā illā kullu khattārin kafūr(in).
اور جب (سمندر میں) اِن لوگوں پر ایک موج سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہے تو یہ اللہ کو پکارتے ہیں اپنے دین کو بالکل اسی کے لیے خالص کر کے، پھر جب وہ بچا کر انہیں خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی اقتصاد برتتا ہے، اور ہماری نشانیوں کا انکار نہیں کرتا مگر ہر وہ شخص جو غدّار اور ناشکرا ہے
📝 حاشیہ
٦٠٢) "صراطِ مستقیم" (سیدھے راستے) سے مراد اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی توحید (ایک ہونے) کا اقرار کرنا ہے۔