سورۃ الاحزاب
۞ تُرْجِى مَن تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَتُـْٔوِىٓ إِلَيْكَ مَن تَشَآءُ ۖ وَمَنِ ٱبْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ ءَاتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِى قُلُوبِكُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَلِيمًا
Turjī man tasyā'u wa tu'wī ilaika man tasyā'(u), wa manibtagaita mimman ‘azalta falā junāḥa ‘alaik(a), żālika adnā an taqarra a‘yunuhunna wa lā yaḥzanna wa yarḍaina bimā ātaitahunna kulluhunn(a), wallāhu ya‘lamu mā fī qulūbikum, wa kānallāhu ‘alīman ḥalīmā(n).
تم کو اختیار دیا جاتا ہے کہ اپنی بیویوں میں سے جس کو چاہو اپنے سے الگ رکھو، جسے چاہو اپنے ساتھ رکھو اور جسے چاہو الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بلا لو اس معاملہ میں تم پر کوئی مضائقہ نہیں ہے اِس طرح زیادہ متوقع ہے کہ اُن کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ رنجیدہ نہ ہوں گی، اور جو کچھ بھی تم اُن کو دو گے اس پر وہ سب راضی رہیں گی اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگوں کے دلوں میں ہے، اور اللہ علیم و حلیم ہے
📝 حاشیہ
٦١٨) روایات کے مطابق، ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواجِ مطہرات میں غیرت (رشک) کا جذبہ پیدا ہوا اور بعض نے خرچے میں اضافے کا مطالبہ کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک ان سے علیحدگی اختیار کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے طلاق ہو جانے کے خوف سے، وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اس بات پر اپنی مکمل رضا مندی کا اظہار کیا کہ آپ ان کے ساتھ جو بھی معاملہ فرمائیں۔ اس آیت کے نازل ہونے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اجازت مل گئی کہ آپ اپنی ازواج میں سے جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جس سے چاہیں علیحدگی اختیار فرمائیں، اور اگر کسی کو طلاق دے دی ہو تو اس سے رجوع فرما لیں۔