سورۃ الزمر
ٱللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ ٱلْحَدِيثِ كِتَـٰبًا مُّتَشَـٰبِهًا مَّثَانِىَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُدَى ٱللَّهِ يَهْدِى بِهِۦ مَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنْ هَادٍ
Allāhu nazzala aḥsanal-ḥadīṡi kitābam mutasyābiham maṡāniy(a), taqsya‘irru minhu julūdul-lażīna yakhsyauna rabbahum, ṡumma talīnu julūduhum wa qulūbuhum ilā żikrillāh(i), żālika hudallāhi yahdī bihī may yasyā'(u), wa may yuḍlilillāhu famā lahū min hād(in).
اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں اُسے سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے
📝 حاشیہ
٦٦٢) قرآن مجید میں احکام، اسباق اور قصص کو بار بار دہرایا گیا ہے تاکہ ان کا گہرا اثر ہو اور وہ دلوں میں راسخ ہو جائیں۔ بعض دوسرے مفسرین کے نزدیک اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات بار بار پڑھی جاتی ہیں۔