سورۃ الاحقاف
۞ وَٱذْكُرْ أَخَا عَادٍ إِذْ أَنذَرَ قَوْمَهُۥ بِٱلْأَحْقَافِ وَقَدْ خَلَتِ ٱلنُّذُرُ مِنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦٓ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
Ważkur akhā ‘ād(in), iż anżara qaumahū bil-aḥqāfi wa qad khalatin-nużuru mim baini yadaihi wa min khalfihī allā ta‘budū illallāh(a), innī akhāfu ‘alaikum ‘ażāba yaumin ‘aẓīm(in).
ذرا اِنہیں عاد کے بھائی (ہودؑ) کا قصہ سناؤ جبکہ اُس نے احقاف میں اپنی قوم کو خبردار کیا تھا اور ایسے خبردار کرنے والے اُس سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے کہ "اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے"
📝 حاشیہ
٦٩١) وادیِ احقاف ریتلی وادیاں ہیں جو جزیرہ نمائے عرب کے جنوبی حصے میں واقع ہیں۔