سورۃ الحشر
وَمَآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنْهُمْ فَمَآ أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُۥ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
Wa mā afā'allāhu ‘alā rasūlihī minhum famā aujaftum ‘alaihi min khailiw wa lā rikābiw wa lākinnallāha yusalliṭu rusulahū ‘alā may yasyā'(u), wallāhu ‘alā kulli syai'in qadīr(un).
اور جو مال اللہ نے اُن کے قبضے سے نکال کر اپنے رسول کی طرف پلٹا دیے، وہ ایسے مال نہیں ہیں جن پر تم نے اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑائے ہوں، بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے تسلط عطا فرما دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
📝 حاشیہ
٧١٢) دشمن سے بغیر لڑائی کے حاصل ہونے والے مالِ غنیمت کو "فےء" کہا جاتا ہے، جبکہ جنگ اور لڑائی کے ذریعے حاصل ہونے والے مال کو "غنیمت" کہتے ہیں۔ مالِ فےء کی تقسیم اس سورت کی آیت ۷ میں بیان کی گئی ہے، جبکہ مالِ غنیمت کی تقسیم سورہ الانفال (۸: ۴۱) میں بیان ہوئی ہے۔