سورۃ ہود
فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا۟ فِى دَارِكُمْ ثَلَـٰثَةَ أَيَّامٍ ۖ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ
Fa ‘aqarūhā fa qāla tamatta‘ū fī dārikum ṡalāṡata ayyām(in), żālika wa‘dun gairu makżūb(in).
مگر انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا اس پر صالحؑ نے اُن کو خبردار کر دیا کہ "بس اب تین دن اپنے گھروں میں اور رہ بس لو یہ ایسی میعاد ہے جو جھوٹی نہ ثابت ہوگی"
📝 حاشیہ
٣٥٨) ان کا اونٹنی کو قتل کرنا حضرت صالح علیہ السلام کی ممانعت کی صریح خلاف ورزی تھا۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی بقیہ زندگی کو صرف تین دن تک محدود کر کے ان پر عذاب نازل فرمایا۔ چنانچہ، بطورِ طنز و ملامت، انہیں ان تین دنوں میں عیش و عشرت کرنے کو کہا گیا۔ ٣٥٩) وہ کڑک (عذاب) کے ذریعے اتنی تیزی سے تباہ کیے گئے کہ وہ ملیا میٹ ہو گئے، گویا وہ کبھی وہاں آباد ہی نہ تھے۔