سورۃ یوسف
وَقَالَ ٱلَّذِى ٱشْتَرَىٰهُ مِن مِّصْرَ لِٱمْرَأَتِهِۦٓ أَكْرِمِى مَثْوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًا ۚ وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمْرِهِۦ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
Wa qālal-lażisytarāhu mim miṣra limra'atihī akrimī maṡwāhu ‘asā ay yanfa‘anā au nattakhiżahū waladā(n), wa każālika makkannā liyūsufa fil-arḍ(i), wa linu‘allimahū min ta'wīlil-aḥādīṡ(i), wallāhu gālibun ‘alā amrihī wa lākinna akṡaran-nāsi lā ya‘lamūn(a).
مصر کے جس شخص نے اسے خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا "اِس کو اچھی طرح رکھنا، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں" اس طرح ہم نے یوسفؑ کے لیے اُس سرزمین میں قدم جمانے کی صورت نکالی اور اسے معاملہ فہمی کی تعلیم دینے کا انتظام کیا اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
📝 حاشیہ
٣٦٨) مصر کا وہ شخص جس نے حضرت یوسف علیہ السلام کو خریدا، مصر کا ایک بڑا عہدہ دار (وزیر) تھا جو "قِطفیر العزیز" کے نام سے جانا جاتا تھا۔ بعض کتبِ تفسیر میں اس کی بیوی کا نام "راعیل" بھی بتایا گیا ہے، اور کچھ لوگ اسے "زلیخا" یا "زلیخہ" بھی کہتے ہیں۔ تاہم، ان ناموں کا ذکر کرنے والی روایات کی تصدیق نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی وہ قابلِ اعتماد ہیں۔