سورۃ یوسف
وَقَالَ لِفِتْيَـٰنِهِ ٱجْعَلُوا۟ بِضَـٰعَتَهُمْ فِى رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُونَهَآ إِذَا ٱنقَلَبُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
Wa qāla lifityānihij‘alū biḍā‘atahum fī riḥālihim la‘allahum ya‘rifūnahā iżanqalabū ilā ahlihim la‘allahum yarji‘ūn(a).
یوسفؑ نے اپنے غلاموں کو اشارہ کیا کہ "اِن لوگوں نے غلے کے عوض جو مال دیا ہے وہ چپکے سے ان کے سامان ہی میں رکھ دو" یہ یوسفؑ نے اِس امید پر کیا کہ گھر پہنچ کر وہ اپنا واپس پایا ہوا مال پہچان جائیں گے (یا اِس فیاضی پر احسان مند ہوں گے) اور عجب نہیں کہ پھر پلٹیں
📝 حاشیہ
٣٧٣) اکثر مفسرین کے مطابق، حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا وہ سامان جسے انہوں نے غلے کے بدلے تبادلے (بارٹر) کے لیے استعمال کیا تھا، وہ چمڑا یا جوتے تھے۔ ٣٧٤) یہ قدم ایک تدبیر کے طور پر اٹھایا گیا تھا تاکہ ان پر احسان کیا جائے، جس کے نتیجے میں وہ مستقبل میں بن یامین کو اپنے ساتھ لے کر دوبارہ مصر آنے پر خوشی سے آمادہ ہو جائیں۔