سورۃ الحج
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِىٍّ إِلَّآ إِذَا تَمَنَّىٰٓ أَلْقَى ٱلشَّيْطَـٰنُ فِىٓ أُمْنِيَّتِهِۦ فَيَنسَخُ ٱللَّهُ مَا يُلْقِى ٱلشَّيْطَـٰنُ ثُمَّ يُحْكِمُ ٱللَّهُ ءَايَـٰتِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
Wa mā arsalnā min qablika mir rasūliw wa lā nabiyyin illā iżā tamannā alqasy-syaiṭānu fī umniyyatih(ī), fa yansakhullāhu mā yulqisy-syaiṭānu ṡumma yuḥkimullāhu āyātih(ī), wallāhu ‘alīmun ḥakīm(un).
اور اے محمدؐ، تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول ایسا بھیجا ہے نہ نبی (جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ پیش آیا ہو کہ) جب اُس نے تمنّا کی، شیطان اس کی تمنّا میں خلل انداز ہو گیا اِس طرح جو کچھ بھی شیطان خلل اندازیاں کرتا ہے اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کر دیتا ہے، اللہ علیم ہے اور حکیم
📝 حاشیہ
٥٠٥) بعض مفسرین نے ’تمنّٰی‘ کا معنی ’پڑھنا (تلاوت کرنا)‘ اور ’امنیّتہ‘ کا معنی ’اس کی قرات (تلاوت)‘ کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ایسی آیت تلاوت فرماتے جس میں کافروں کو ڈرایا گیا ہوتا، تو وہ فوراً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات کے ساتھ ایسے الفاظ کا اضافہ کر دیتے جو ان کے اپنے عقیدے کی تائید کرتے۔