سورۃ فاطر
ثُمَّ أَوْرَثْنَا ٱلْكِتَـٰبَ ٱلَّذِينَ ٱصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِۦ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِٱلْخَيْرَٰتِ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْكَبِيرُ
Ṡumma auraṡnal-kitābal-lażīnaṣṭafainā min ‘ibādinā, fa minhum ẓālimul linafsih(ī), wa minhum muqtaṣid(un), wa minhum sābiqum bil-khairāti bi'iżnillāh(i), żālika huwal-faḍlul-kabīr(u).
پھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنا دیا اُن لوگوں کو جنہیں ہم نے (اِس وراثت کے لیے) اپنے بندوں میں سے چن لیا اب کوئی تو ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی بیچ کی راس ہے، اور کوئی اللہ کے اذن سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے
📝 حاشیہ
٦٣٦) ’’اپنے آپ پر ظلم کرنے‘‘ (ظالم لنفسه) سے مراد گناہ کرنا ہے، جبکہ ’’میانہ روی‘‘ (مقتصد) سے مراد وہ شخص ہے جو صرف واجبات (فرائض) ادا کرتا ہے اور گناہوں سے بچتا ہے۔ رہے ’’نیکیوں میں آگے بڑھ جانے والے‘‘ (سابق بالخيرات)، تو یہ وہ لوگ ہیں جو نہ صرف واجبات پر عمل کرتے ہیں بلکہ مستحبات اور سنتوں پر بھی عمل کرتے ہیں۔