سورۃ التوبہ
وَأَذَٰنٌ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلنَّاسِ يَوْمَ ٱلْحَجِّ ٱلْأَكْبَرِ أَنَّ ٱللَّهَ بَرِىٓءٌ مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُۥ ۚ فَإِن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى ٱللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
Wa ażānum minallāhi wa rasūlihī ilan-nāsi yaumal-ḥajjil akbari annallāha barī'um minal-musyrikīn(a), wa rasūluh(ū), fa in tubtum fa huwa khairul lakum, wa in tawallaitum fa‘lamū annakum gairu mu‘jizillāh(i), wa basysyiril-lażīna kafarū bi‘ażābin alīm(in).
اطلاع عام ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حج اکبر کے دن تمام لوگوں کے لیے کہ اللہ مشرکین سے بری الذمہ ہے اور اُس کا رسول بھی اب اگر تم لوگ توبہ کر لو تو تمہارے ہی لیے بہتر ہے اور جو منہ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو اور اے نبیؐ، انکار کرنے والوں کو سخت عذاب کی خوشخبری سنا دو
📝 حاشیہ
٣١٩) اس آیت میں "حجِ اکبر" کے مفہوم کے بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ اس سے مراد یومِ نحر (قربانی کا دن) ہے، اور بعض کا کہنا ہے کہ اس سے مراد یومِ عرفہ ہے۔ یہاں حجِ اکبر سے مراد وہ حج ہے جو 9 ہجری میں ہوا تھا۔