سورۃ التوبہ
إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ عِندَ ٱللَّهِ ٱثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِى كِتَـٰبِ ٱللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ مِنْهَآ أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا۟ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ ۚ وَقَـٰتِلُوا۟ ٱلْمُشْرِكِينَ كَآفَّةً كَمَا يُقَـٰتِلُونَكُمْ كَآفَّةً ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُتَّقِينَ
Inna ‘iddatasy-syuhūri ‘indallāhiṡnā ‘asyara syahran fī kitābillāhi yauma khalaqas-samāwāti wal-arḍa minhā arba‘atun ḥurum(un), żālikad-dīnul-qayyim(u), falā taẓlimū fīhinna anfusakum wa qātilul-musyrikīna kāffatan kamā yuqātilūnakum kāffah(tan), wa‘lamū annallāha ma‘al-muttaqīn(a).
حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے، اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں یہی ٹھیک ضابطہ ہے لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ متقیوں ہی کے ساتھ ہے
📝 حاشیہ
٣٢٦) اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سورج کے گرد زمین کے مدار کی مدت ایک سال مقرر فرمائی ہے جو بارہ مہینوں کے برابر ہے، یعنی چاند کے زمین کے گرد چکر لگانے کے نتیجے میں بارہ مرتبہ ہلال (نیا چاند) کا ظاہر ہونا۔ وقت کی اسی باقاعدگی کو حساب و شمار کے لیے معیار بنایا گیا ہے۔