سورۃ طہ
إِذْ تَمْشِىٓ أُخْتُكَ فَتَقُولُ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ مَن يَكْفُلُهُۥ ۖ فَرَجَعْنَـٰكَ إِلَىٰٓ أُمِّكَ كَىْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ ۚ وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنَـٰكَ مِنَ ٱلْغَمِّ وَفَتَنَّـٰكَ فُتُونًا ۚ فَلَبِثْتَ سِنِينَ فِىٓ أَهْلِ مَدْيَنَ ثُمَّ جِئْتَ عَلَىٰ قَدَرٍ يَـٰمُوسَىٰ
Iż tamsyī ukhtuka fa taqūlu hal adullukum ‘alā may yakfuluh(ū), fa raja‘nāka ilā ummika kai taqarra ‘ainuhā wa lā taḥzan(a), wa qatalta nafsan fa najjaināka minal-gammi wa fatannāka futūnā(n), fa labiṡta sinīna fī ahli madyan(a), ṡumma ji'ta ‘alā qadariy yā mūsā.
یاد کر جبکہ تیری بہن چل رہی تھی، پھر جا کر کہتی ہے، "میں تمہیں اُس کا پتہ دوں جو اِس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے؟" اس طرح ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اُس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو اور (یہ بھی یاد کر کہ) تو نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، ہم نے تجھے اِس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے گزارا اور تو مَدیَن کے لوگوں میں کئی سال ٹھیرا رہا پھر اب ٹھیک اپنے وقت پر تو آ گیا ہے اے موسیٰؑ
📝 حاشیہ
٤٦٨) مقتول ایک قبطی شخص تھا جو ایک اسرائیلی سے لڑ رہا تھا، جیسا کہ سورہ القصص/28: 15 میں بیان کیا گیا ہے۔ ٤٦٩) حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے بھاگ کر مدین چلے گئے۔ وہاں مدین کے بزرگ (شیخ) نے اپنی ایک بیٹی سے ان کا نکاح کر دیا اور وہ وہاں کئی سال مقیم رہے۔