سورۃ طہ
قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا۟ بِهِۦ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ أَثَرِ ٱلرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذَٰلِكَ سَوَّلَتْ لِى نَفْسِى
Qāla baṣurtu bimā lam yabṣurū bihī fa qabaḍtu qabḍatam min aṡarir-rasūli fa nabażtuhā wa każālika sawwalat lī nafsī.
اس نے جواب دیا "میں نے وہ چیز دیکھی جو اِن لوگوں کو نظر نہ آئی، پس میں نے رسُول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھا لی اور اُس کو ڈال دیا میرے نفس نے مجھے کچھ ایسا ہی سجھایا"
📝 حاشیہ
٤٧٩) جمہور علماء کے مطابق ’رسول کے نقشِ قدم‘ (أثر الرسول) سے مراد جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کے کھروں کا نشان ہے۔ اس رائے کے مطابق سامری نے اس نشان سے ایک مٹھی خاک اٹھائی اور اسے سونے کے زیورات کو پگھلا کر بنائے گئے بچھڑے کے بت پر ڈال دیا، جس سے اس بت میں سے ایک آواز نکلنے لگی۔ جبکہ مفسرین کی ایک قلیل تعداد کا ماننا ہے کہ یہاں ’رسول کے نقشِ قدم‘ سے مراد ان کی تعلیمات ہیں۔ اس مفہوم کے مطابق، سامری نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کا کچھ حصہ لیا اور پھر ان تعلیمات کو چھوڑ دیا جس کی وجہ سے وہ گمراہ ہو گیا۔