سورۃ القصص
۞ فَلَمَّا قَضَىٰ مُوسَى ٱلْأَجَلَ وَسَارَ بِأَهْلِهِۦٓ ءَانَسَ مِن جَانِبِ ٱلطُّورِ نَارًا قَالَ لِأَهْلِهِ ٱمْكُثُوٓا۟ إِنِّىٓ ءَانَسْتُ نَارًا لَّعَلِّىٓ ءَاتِيكُم مِّنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ ٱلنَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ
Falammā qaḍā mūsal-ajala wa sāra bi'ahlihī ānasa min jānibiṭ-ṭūri nārā(n), qāla li'ahlihimkuṡū innī ānastu nāral la‘allī ātīkum minhā bikhabarin au jażwatim minan-nāri la‘allakum taṣṭalūn(a).
جب موسیٰؑ نے مدت پوری کر دی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر چلا تو طُور کی جانب اس کو ایک آگ نظر آئی اُس نے اپنے گھر والوں سے کہا "ٹھیرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آؤں یا اس آگ سے کوئی انگارہ ہی اُٹھا لاؤں جس سے تم تاپ سکو"
📝 حاشیہ
٥٦١) جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے سسر، شیخِ مدین سے کیا ہوا وعدہ (مدت) پورا کر لیا، تو وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ اپنی والدہ سے ملنے مصر روانہ ہو گئے۔