سورۃ القصص
وَأَخِى هَـٰرُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّى لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِىَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِىٓ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ
Wa akhī hārūnu huwa afṣaḥu minnī lisānan fa'arsilhu ma‘iya rid'ay yuṣaddiqunī, innī akhāfu ay yukażżibūn(i).
اور میرا بھائی ہارونؑ مجھے سے زیادہ زبان آور ہے، اسے میرے ساتھ مدد گار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے"
📝 حاشیہ
٥٦٤) فرعون سے خوف محسوس کرنے کے علاوہ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی زبان میں لکنت (روانی کی کمی) بھی محسوس کرتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کے ساتھ حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی نبی بنا کر بھیجیں جو ان سے زیادہ فصیح زبان دار تھے۔