سورۃ یونس
هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ ٱلشَّمْسَ ضِيَآءً وَٱلْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُۥ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا۟ عَدَدَ ٱلسِّنِينَ وَٱلْحِسَابَ ۚ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
Huwal-lażī ja‘alasy-syamsa ḍiyā'aw wal-qamara nūraw wa qaddarahū manāzila lita‘lamū ‘adadas-sinīna wal-ḥisāb(a), mā khalaqallāhu zālika illā bil-ḥaqq(i), yufaṣṣilul-āyāti liqaumiy ya‘lamūn(a).
وہی ہے جس نے سُورج کو اجیالا بنایا اور چاند کو چمک دی اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کی منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کر دیں تاکہ تم اُس سے برسوں اور تاریخوں کے حساب معلوم کرو اللہ نے یہ سب کچھ (کھیل کے طور پر نہیں بلکہ) با مقصد ہی بنایا ہے وہ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر پیش کر رہا ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں
📝 حاشیہ
٣٤٣) اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کی طبیعی خصوصیات کو مختلف بنایا ہے۔ سورج اپنی متبادل روشنی (ضیاء) اپنے مرکز میں ہونے والے نیوکلیائی تعاملات (nuclear reactions) کے عمل سے خارج کرتا ہے، جبکہ چاند سورج کی روشنی کو منعکس (reflect) کرنے کی وجہ سے چمکتا ہے۔ ٣٤٤) چاند کی زمین کے گرد گردش کے باعث چاند کی طرف سے سورج کی روشنی کا انعکاس اپنی پوزیشن کے حساب سے بدلتا رہتا ہے، جو ہلال (پہلی رات کے چاند) سے لے کر بدر (چودھویں کے چاند) تک اور پھر دوبارہ ہلال کی شکل میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ زمین کے گرد چاند کی گردش کی باقاعدہ مدت کو ماہانہ وقت کے حساب کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ بارہ مہینے ایک سال کے برابر ہوتے ہیں (سورہ التوبہ/9: 36)۔