سورۃ الاسراء
أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ ٱلْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُۥ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُۥٓ ۚ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا
Ulā'ikal-lażīna yad‘ūna yabtagūna ilā rabbihimul-wasīlata ayyuhum aqrabu wa yarjūna raḥmatahū wa yakhāfūna ‘ażābah(ū), inna ‘ażāba rabbika kāna maḥżūrā(n).
جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کے حضور رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ تلاش کر رہے ہیں کہ کون اُس سے قریب تر ہو جائے اور وہ اُس کی رحمت کے امیدوار اور اُس کے عذاب سے خائف ہیں حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق
📝 حاشیہ
٤٣١) حضرت عیسیٰ علیہ السلام، فرشتے اور عزیر جن کی یہ اب تک عبادت کرتے رہے ہیں، وہ تو خود اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں اور اس کا قرب حاصل کرنے کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔