سورۃ الاسراء
وَإِن كَادُوا۟ لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ ٱلْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَـٰفَكَ إِلَّا قَلِيلًا
Wa in kādū layastafizzūnaka minal-arḍi liyukhrijūka minhā wa iżal lā yalbaṡūna khilāfaka illā qalīlā(n).
اور یہ لوگ اس بات پر بھی تلے رہے ہیں کہ تمہارے قدم اِس سر زمین سے اکھاڑ دیں اور تمہیں یہاں سے نکال باہر کریں لیکن اگر یہ ایسا کریں گے تو تمہارے بعد یہ خود یہاں کچھ زیادہ دیر نہ ٹھیر سکیں گے
📝 حاشیہ
٤٣٤) اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعی اہل مکہ نے نکالا ہوتا، تو وہ اس دنیا میں زیادہ دیر نہ رہ پاتے کیونکہ اللہ تعالیٰ جلد ہی انہیں ہلاک کر دیتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت قریش کے نکالنے کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے تھی۔