سورۃ الاسراء
وَإِذْ قُلْنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِٱلنَّاسِ ۚ وَمَا جَعَلْنَا ٱلرُّءْيَا ٱلَّتِىٓ أَرَيْنَـٰكَ إِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَٱلشَّجَرَةَ ٱلْمَلْعُونَةَ فِى ٱلْقُرْءَانِ ۚ وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا طُغْيَـٰنًا كَبِيرًا
Wa iż qulnā laka inna rabbaka aḥāṭa bin-nās(i), wa mā ja‘alnar-ru'yal-latī araināka illā fitnatal lin-nāsi wasy-syajaratal mal‘ūnata fil-qur'ān(i), wa nukhawwifuhum, famā yazīduhum illā ṭugyānan kabīrā(n).
یاد کرو اے محمدؐ، ہم نے تم سے کہہ دیا تھا کہ تیرے رب نے اِن لوگوں کو گھیر رکھا ہے اور یہ جو کچھ ابھی ہم نے تمہیں دکھایا ہے، اِس کو اور اُس درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے، ہم نے اِن لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا ہم اِنہیں تنبیہ پر تنبیہ کیے جا رہے ہیں، مگر ہر تنبیہ اِن کی سر کشی ہی میں اضافہ کیے جاتی ہے
📝 حاشیہ
٤٣٢) بعض مفسرین کے مطابق، یہاں رُؤیا (دیکھنے) سے مراد واقعہ اسراء اور معراج سے ہے، چنانچہ اس کا مفہوم 'معراج کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مشاہدہ' ہے۔ جبکہ دیگر مفسرین کے نزدیک، اس رُؤیا کا تعلق غزوۂ بدر سے ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب 'وہ خواب ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر سے پہلے دیکھا تھا'۔ ٤٣٣) ملعون درخت سے مراد زقوم کا درخت ہے (دیکھیں سورہ الصافات/37: 62 اور الدخان/44: 43)۔