سورۃ الانبیاء
فَفَهَّمْنَـٰهَا سُلَيْمَـٰنَ ۚ وَكُلًّا ءَاتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا ۚ وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُۥدَ ٱلْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَٱلطَّيْرَ ۚ وَكُنَّا فَـٰعِلِينَ
Fa fahhamnāhā sulaimān(a), wa kullan ātainā ḥukmaw wa ‘ilmā(n), wa sakhkharnā ma‘a dāwūdal-jibāla yusabbiḥna waṭ-ṭair(a), wa kunnā fā‘ilīn(a).
اُس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمانؑ کو سمجھا دیا، حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا داؤدؑ کے ساتھ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخّر کر دیا تھا جو تسبیح کرتے تھے، اِس فعل کے کرنے والے ہم ہی تھے
📝 حاشیہ
٤٩٢) ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق، بکریوں کے ایک ریوڑ نے رات کے وقت کسی کی کھیتی کو نقصان پہنچایا۔ کھیت کے مالک نے اس بات کی شکایت حضرت داؤد علیہ السلام سے کی۔ انہوں نے فیصلہ دیا کہ وہ بکریاں نقصان کے معاوضے کے طور پر کھیت کے مالک کے حوالے کر دی جائیں۔ تاہم، حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ فیصلہ فرمایا کہ بکریاں عارضی طور پر کھیت کے مالک کے حوالے کی جائیں تاکہ وہ ان سے فائدہ اٹھائے، اور بکریوں کے مالک پر لازم کیا گیا کہ وہ اس کھیت میں نئی فصل کاشت کرے۔ جب نئی فصل تیار ہو جائے اور اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے، تو بکریوں کا مالک اپنی بکریاں واپس لے سکتا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا یہی فیصلہ زیادہ مناسب اور درست تھا۔