سورۃ الانبیاء
وَدَاوُۥدَ وَسُلَيْمَـٰنَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِى ٱلْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ ٱلْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَـٰهِدِينَ
Wa dāwūda wa sulaimāna iż yaḥkumāni fil-ḥarṡi iż nafasyat fīhi ganamul-qaum(i), wa kunnā liḥukmihim syāhidīn(a).
اور اِسی نعمت سے ہم نے داؤدؑ اورسلیمانؑ کو سرفراز کیا یاد کرو وہ موقع جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصلہ کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دُوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں، اور ہم اُن کی عدالت خود دیکھ رہے تھے
📝 حاشیہ
٤٩١) اس واقعے میں، حضرت داؤد علیہ السلام نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ کھیتی کے نقصان کے معاوضے میں وہ بکریاں کھیت کے مالک کو دے دی جائیں۔ تاہم، حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ فیصلہ فرمایا کہ بکریوں کا مالک اس کھیت میں دوبارہ کاشتکاری کرے یہاں تک کہ وہ اپنی اصل حالت پر لوٹ آئے۔ اسی دوران، بکریوں کے مالک پر لازم ہوگا کہ وہ اپنی بکریاں کھیت کے مالک کے حوالے کر دے تاکہ وہ ان سے (دودھ اور اون وغیرہ کے ذریعے) فائدہ اٹھا سکے، جب تک کہ کھیت میں فصل دوبارہ تیار نہ ہو جائے۔