سورۃ الروم
۞ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۖ وَهُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْقَدِيرُ
Allāhul-lażī khalaqakum min ḍa‘fin ṡumma ja‘ala mim ba‘di ḍa‘fin quwwatan ṡumma ja‘ala mim ba‘di quwwatin ḍa‘faw wa syaibah(tan), yakhluqu mā yasyā'(u), wa huwal-‘alīmul-qadīr(u).
اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت میں تمہاری پیدائش کی ابتدا کی، پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی، پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کر دیا وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے
📝 حاشیہ
٥٩٥) لفظ "کمزوری" سے پہلی مرتبہ مراد وہ وقت ہے جب انسان ابھی نطفہ کی شکل میں ہوتا ہے۔ دوسری مرتبہ "کمزوری" سے مراد بچپن کا زمانہ ہے، جبکہ لفظ "قوت" سے مراد جوانی کا دور ہے۔