سورۃ الروم
فِىٓ أَدْنَى ٱلْأَرْضِ وَهُم مِّنۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ
Fī adnal-arḍi wa hum mim ba‘di galabihim sayaglibūn(a).
اور اپنی اِس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہو جائیں گے
📝 حاشیہ
٥٨٠) یعنی عرب کی سرزمین کے قریب، یعنی شام اور فلسطین۔ ٥٨١) رومی (اس آیت کے نزول کے وقت) ایک عیسائی قوم تھے جو صاحبِ کتاب تھی، جبکہ فارسی (ایرانی) مجوسی تھے جو آگ اور بتوں کی پوجا کرتے تھے (مشرک تھے)۔ جب رومیوں کی فارسیوں کے ہاتھوں شکست کی خبر پھیلی تو مکہ کے مشرکین نے اس کا بڑے جوش و خروش سے خیرمقدم کیا کیونکہ وہ مشرک فارسیوں کے ہمدرد تھے۔ اس کے برعکس، مسلمانوں کو اس بات کا رنج ہوا۔ یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت یہ واضح کرنے کے لیے نازل ہوئیں کہ رومی اپنی شکست کے بعد چند ہی سالوں میں دوبارہ غالب (کامیاب) آ جائیں گے۔ اور ایسا ہی ہوا؛ اس کے چند سال بعد رومیوں نے پلٹ کر فارسیوں کو مغلوب کر دیا۔ اس واقعے سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بطور نبی اور رسول سچائی اور قرآن مجید کا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا کلام ہونا پوری طرح واضح ہو گیا۔