سورۃ المائدہ

۞ وَلَقَدْ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَـٰقَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ ٱثْنَىْ عَشَرَ نَقِيبًا ۖ وَقَالَ ٱللَّهُ إِنِّى مَعَكُمْ ۖ لَئِنْ أَقَمْتُمُ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَيْتُمُ ٱلزَّكَوٰةَ وَءَامَنتُم بِرُسُلِى وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ ٱللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّأُكَفِّرَنَّ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّـٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ ۚ فَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ

Wa laqad akhażallāhu mīṡāqa banī isrā'īl(a), wa ba‘aṡnā minhumuṡnai ‘asyara naqībā(n), wa qālallāhu innī ma‘akum, la'in aqamtumuṣ-ṣalāta wa ātaitumuz-zakāta wa āmantum birusulī wa ‘azzartumūhum wa aqraḍtumullāha qarḍan ḥasanal la'ukaffiranna ‘ankum sayyi'ātikum wa la'udkhilannakum jannātin tajrī min taḥtihal-anhār(u), faman kafara ba‘da żālika minkum faqad ḍalla sawā'as-sabīl(i).

اللہ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا اور ان میں بارہ نقیب مقرر کیے تھے اور ان سے کہا تھا کہ "میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ دی اور میرے رسولوں کو مانا اور ان کی مدد کی اور اپنے خدا کو اچھا قرض دیتے رہے تو یقین رکھو کہ میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، مگراس کے بعد جس نے تم میں سے کفر کی روش اختیار کی تو در حقیقت اُس نے سوا٫ السبیل گم کر دی"

📝 حاشیہ
‏٢٠٥) اللہ تعالیٰ کو قرضِ حسنہ دینے سے مراد اپنے مال کو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی راہ میں خرچ (انفاق) کرنا ہے، خواہ وہ انفاقِ واجب (جیسے زکوٰۃ) ہو یا انفاقِ نفل (سنت و مستحب)۔

تمام آیات 120 آیات
آج ہی پڑھنا شروع کریں

قرآن پڑھنا اپنے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنائیں۔ Quran Today آپ کو پریشانیوں کے بغیر پڑھنا جاری رکھنے میں مدد کرتا ہے، ایک آسان، تیز، نجی اور آرام دہ تجربے کے ساتھ۔