سورۃ المائدہ

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُحِلُّوا۟ شَعَـٰٓئِرَ ٱللَّهِ وَلَا ٱلشَّهْرَ ٱلْحَرَامَ وَلَا ٱلْهَدْىَ وَلَا ٱلْقَلَـٰٓئِدَ وَلَآ ءَآمِّينَ ٱلْبَيْتَ ٱلْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّن رَّبِّهِمْ وَرِضْوَٰنًا ۚ وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَٱصْطَادُوا۟ ۚ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ أَن صَدُّوكُمْ عَنِ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ أَن تَعْتَدُوا۟ ۘ وَتَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْبِرِّ وَٱلتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

Yā ayyuhal-lażīna āmanū lā tuḥillū sya‘ā'irallāhi wa lasy-syahral-ḥarāma wa lal-hadya wa lal-qalā'ida wa lā āmmīnal-baital-ḥarāma yabtagūna faḍlam mir rabbihim wa riḍwānā(n), wa iżā ḥalaltum faṣṭādū, wa lā yajrimannakum syana'ānu qaumin an ṣaddūkum ‘anil- asjidil-ḥarāmi an ta‘tadū, wa ta‘āwanū ‘alal-birri wat-taqwā, wa lā ta‘āwanū ‘alal-iṡmi wal-‘udwān(i), wattaqullāh(a), innallāha syadīdul-‘iqāb(i).

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خد ا پرستی کی نشانیوں کو بے حرمت نہ کرو نہ حرام مہینوں میں سے کسی کو حلال کر لو، نہ قربانی کے جانوروں پر دست درازی کرو، نہ اُن جانوروں پر ہاتھ ڈالو جن کی گردنوں میں نذر خداوندی کی علامت کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں، نہ اُن لوگوں کو چھیڑو جو اپنے رب کے فضل اور اس کی خوشنودی کی تلاش میں مکان محترم (کعبہ) کی طرف جا رہے ہوں ہاں جب احرام کی حالت ختم ہو جائے تو شکار تم کرسکتے ہو اور دیکھو، ایک گروہ نے جو تمہارے لیے مسجد حرام کا راستہ بند کر دیا ہے تواس پر تمہارا غصہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کر دے کہ تم بھی ان کے مقابلہ میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو نہیں! جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو اللہ سے ڈرو، اس کی سز ا بہت سخت ہے

📝 حاشیہ
‏١٩٣) اللہ کی شعائر (نشانیاں) سے مراد حج کے ارکان کے طور پر کیے جانے والے تمام اعمال ہیں، جیسے طواف اور سعی کا طریقہ کار، اور وہ مقامات جہاں یہ اعمال کیے جاتے ہیں، جیسے کعبہ، صفا اور مروہ۔ ‏١٩٤) حرمت والے مہینے ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب ہیں۔ ان مہینوں میں جنگ کرنا ممنوع ہے۔ ‏١٩٥) ہدی (Hadyu) سے مراد وہ قربانی کا جانور ہے جو حج کے دوران کسی واجب کے چھوٹ جانے کے بدلے (دم) کے طور پر، یا مناسکِ حج کی کسی ممانعت کی خلاف ورزی کے جرمانے کے طور پر ذبح کیا جائے۔ ‏١٩٦) قلائد (Qalā’id) سے مراد وہ ہدی کے جانور ہیں جن کے گلے میں پٹا یا ہار ڈالا گیا ہو، تاکہ یہ نشانی رہے کہ انہیں کعبہ کی طرف لے جانے کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے۔ ‏١٩٧) یہاں "فضل" سے مراد وہ دنیاوی فائدہ یا منافع ہے جو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سفرِ حج کے دوران عطا فرماتا ہے، جبکہ اس کی "رضامندی" سے مراد وہ اجر و ثواب ہے جو وہ حج کی ادائیگی پر عطا کرتا ہے۔

تمام آیات 120 آیات
آج ہی پڑھنا شروع کریں

قرآن پڑھنا اپنے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنائیں۔ Quran Today آپ کو پریشانیوں کے بغیر پڑھنا جاری رکھنے میں مدد کرتا ہے، ایک آسان، تیز، نجی اور آرام دہ تجربے کے ساتھ۔