سورۃ المائدہ
يَسْـَٔلُونَكَ مَاذَآ أُحِلَّ لَهُمْ ۖ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَـٰتُ ۙ وَمَا عَلَّمْتُم مِّنَ ٱلْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ ٱللَّهُ ۖ فَكُلُوا۟ مِمَّآ أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَٱذْكُرُوا۟ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَيْهِ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ
Yas'alūnaka māżā uḥilla lahum, qul uḥilla lakumuṭ-ṭayyibāt(u), wa mā ‘allamtum minal-jawāriḥi mukallibīna tu‘allimūnahunna mimmā ‘allamakumullāhu fa kulū mimmā amsakna ‘alaikum ważkurusmallāhi ‘alaih(i), wattaqullāh(a), innallāha sarī‘ul-ḥisāb(i).
لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے، کہو تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھایا ہو جن کو خدا کے دیے ہوئے علم کی بنا پر تم شکار کی تعلیم دیا کرتے ہو وہ جس جانور کو تمہارے لیے پکڑ رکھیں اس کو بھی تم کھاسکتے ہو، البتہ اس پر اللہ کا نام لے لو اور اللہ کا قانون توڑنے سے ڈرو، اللہ کو حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی
📝 حاشیہ
٢٠١) اس سے مراد وہ شکار ہے جسے کسی شکاری جانور نے پکڑا ہو جسے اس کے مالک نے باقاعدہ شکار کے لیے چھوڑا تھا، اور بشرطیکہ اس شکاری جانور نے خود اس شکار میں سے کچھ نہ کھایا ہو۔