سورۃ المائدہ
ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن يَأْتُوا۟ بِٱلشَّهَـٰدَةِ عَلَىٰ وَجْهِهَآ أَوْ يَخَافُوٓا۟ أَن تُرَدَّ أَيْمَـٰنٌۢ بَعْدَ أَيْمَـٰنِهِمْ ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱسْمَعُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْفَـٰسِقِينَ
Żālika adnā ay ya'tū bisy-syahādati ‘alā wajhihā au yakhāfū an turadda aimānum ba‘da aimānihim, wattaqullāha wasma‘ū, wallāhu lā yahdil qaumal-fāsiqīn(a).
اس طریقہ سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے، یا کم از کم اس بات ہی کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد ددسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہو جائے اللہ سے ڈرو اور سنو، اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے
📝 حاشیہ
٢٣٥) اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے مذہب کے گواہوں کی قسمیں رشتہ داروں میں سے گواہوں کی قسموں کے ذریعے رد کر دی جاتی ہیں، یا اس کا یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ جھوٹی قسم کھانے والوں کو ان کی جھوٹی قسم کی وجہ سے دنیا اور آخرت میں بدلہ ملے گا۔