سورۃ المائدہ
مَا جَعَلَ ٱللَّهُ مِنۢ بَحِيرَةٍ وَلَا سَآئِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ ۙ وَلَـٰكِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۖ وَأَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ
Mā ja‘alallāhu mim baḥīratiw wa lā sā'ibatiw wa lā waṣīlatiw wa lā ḥām(in), wa lākinnal-lażīna kafarū yaftarūna ‘alallāhil-każib(a), wa akṡaruhum lā ya‘qilūn(a).
اللہ نے نہ کوئی بَحِیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام مگر یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بے عقل ہیں (کہ ایسے وہمیات کو مان رہے ہیں)
📝 حاشیہ
٢٣٠) "بحیرہ" اس اونٹنی کو کہا جاتا تھا جو پانچ مرتبہ بچے جن چکی ہو اور پانچواں بچہ نر (مذکر) ہو۔ پھر اس اونٹنی کا کان چیر کر اسے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا، نہ اس پر سواری کی جا سکتی تھی اور نہ اس کا دودھ نکالا جا سکتا تھا۔
٢٣١) "سائبہ" وہ اونٹنی تھی جسے کسی نذر یا منت کی وجہ سے ہر قسم کی روک ٹوک سے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ مثلاً زمانۂ جاہلیت میں اگر کوئی عرب کوئی مشکل کام یا کٹھن سفر شروع کرتا، تو وہ منت مانتا کہ اگر مقصد پورا ہو گیا یا وہ خیریت سے لوٹ آیا تو اپنی اونٹنی کو سائبہ بنا دے گا۔
٢٣٢) ایک روایت کے مطابق "وصیلہ" وہ بکری تھی جو جڑواں (ایک نر اور ایک مادہ) پیدا ہوتی۔ اس وصیلہ بکری کو ذبح نہیں کیا جاتا تھا، جبکہ اس کے جڑواں نر بھائی کو بتوں کے نام پر قربان کر دیا جاتا تھا۔
٢٣٣) "حام" وہ نر اونٹ تھا جسے (بچے پیدا کرنے کے لیے) بالکل آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا کیونکہ وہ دس مرتبہ اونٹنیوں کو حاملہ کر چکا ہوتا تھا۔ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام کے ساتھ یہ برتاؤ زمانۂ جاہلیت کے عربوں کے توہمات اور عقائد کا حصہ تھا۔