سورۃ المائدہ
مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ أَنَّهُۥ مَن قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِى ٱلْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ ٱلنَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَآ أَحْيَا ٱلنَّاسَ جَمِيعًا ۚ وَلَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِٱلْبَيِّنَـٰتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم بَعْدَ ذَٰلِكَ فِى ٱلْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ
Min ajli żālik(a), katabnā ‘alā banī isrā'īla annahū man qatala nafsam bigairi nafsin au fasādin fil-arḍi fa ka'annamā qatalan-nāsa jamī‘ā(n), wa man aḥyāhā fa ka'annamā aḥyan-nāsa jamī‘ā(n), wa laqad jā'athum rusulunā bil-bayyināt(i), ṡumma inna kaṡīram minhum ba‘da żālika fil-arḍi lamusrifūn(a).
اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی" مگر اُن کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے در پے ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں
📝 حاشیہ
٢١١) اس سے مراد یہ ہے کہ کسی ایک انسان کو قتل کرنا گویا تمام انسانوں کے قتل کو حلال سمجھنے کے برابر ہے۔ اس کے برعکس، کسی ایک انسان کی حرمت و زندگی کی حفاظت کرنا گویا تمام انسانوں کی حرمت و زندگی کی حفاظت کرنے کے برابر ہے۔