سورۃ المائدہ
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةُ وَٱلدَّمُ وَلَحْمُ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ وَٱلْمُنْخَنِقَةُ وَٱلْمَوْقُوذَةُ وَٱلْمُتَرَدِّيَةُ وَٱلنَّطِيحَةُ وَمَآ أَكَلَ ٱلسَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى ٱلنُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا۟ بِٱلْأَزْلَـٰمِ ۚ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ ۗ ٱلْيَوْمَ يَئِسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَٱخْشَوْنِ ۚ ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَـٰمَ دِينًا ۚ فَمَنِ ٱضْطُرَّ فِى مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ ۙ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
Ḥurrimat ‘alaikumul-maitatu wad-damu wa laḥmul-khinzīri wa mā uhilla ligairillāhi bihī wal-munkhaniqatu wal-mauqūżatu wal-mutaraddiyatu wan-naṭīḥatu wa mā akalas-sabu‘u illā mā żakkaitum, wa mā żubiḥa ‘alan-nuṣubi wa an tastaqsimū bil-azlām(i), żālikum fisq(un), al-yauma ya'isal-lażīna kafarū min dīnikum falā takhsyauhum wakhsyaun(i), al-yauma akmaltu lakum dīnakum wa atmamtu ‘alaikum ni‘matī wa raḍītu lakumul-islāma dīnā(n), fa maniḍṭurra fī makhmaṣatin gaira mutajānifil li'iṡm(in), fa innallāha gafūrur raḥīm(un).
تم پر حرام کیا گیا مُردار، خون، سُور کا گوشت، وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، وہ جو گھلا گھٹ کر، یا چوٹ کھا کر، یا بلندی سے گر کر، یا ٹکر کھا کر مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو سوائے اس کے جسے تم نے زندہ پاکر ذبح کر لیا اور وہ جو کسی آستا نے پر ذبح کیا گیا ہو نیز یہ بھی تمہارے لیے ناجائز ہے کہ پانسوں کے ذریعہ سے اپنی قسمت معلوم کرو یہ سب افعال فسق ہیں آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے پوری مایوسی ہو چکی ہے لہٰذا تم اُن سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے (لہٰذا حرام و حلال کی جو قیود تم پر عائد کر دی گئی ہیں اُن کی پابند ی کرو) البتہ جو شخص بھوک سے مجبور ہو کر اُن میں سے کوئی چیز کھا لے، بغیر اس کے کہ گناہ کی طرف اس کا میلان ہو تو بیشک اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
📝 حاشیہ
١٩٨) وہ جانور جو گلا گھٹنے، چوٹ لگنے، بلندی سے گرنے، سینگ لگنے یا کسی درندے کے پھاڑنے سے مرنے کے قریب ہو، وہ اس صورت میں حلال ہے اگر موت سے پہلے اسے شرعی طریقے سے ذبح کر لیا جائے۔ ١٩٩) الازلام (Al-Azlām) کے معنی ہیں 'بغیر پروں کے تیر'۔ زمانہ جاہلیت کے عرب کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنے کے لیے ان سے فال (قرعہ) نکالا کرتے تھے۔ وہ تین تیر لیتے تھے: پہلے پر لکھا ہوتا تھا "کرو"، دوسرے پر لکھا ہوتا تھا "نہ کرو"، اور تیسرا خالی چھوڑ دیا جاتا تھا۔ ان تینوں کو ایک برتن میں رکھ کر کعبہ کے اندر محفوظ کر دیا جاتا تھا۔ جب انہیں کوئی کام کرنا ہوتا تو وہ کعبہ کے کلید بردار (خادم) سے کہتے کہ ایک تیر نکالے۔ جو کچھ نکلے ہوئے تیر پر لکھا ہوتا، وہ اس کی اطاعت کرتے۔ لیکن اگر خالی تیر نکل آتا، تو وہ دوبارہ قرعہ اندازی کرتے تھے۔ ٢٠٠) یہاں لفظ "آج کے دن" سے مراد حجۃ الوداع کا وقت ہے۔