سورۃ المائدہ
يَـٰقَوْمِ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْأَرْضَ ٱلْمُقَدَّسَةَ ٱلَّتِى كَتَبَ ٱللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا۟ عَلَىٰٓ أَدْبَارِكُمْ فَتَنقَلِبُوا۟ خَـٰسِرِينَ
Yā qaumidkhulul-arḍal-muqaddasatal-latī kataballāhu lakum wa lā tartaddū ‘alā adbārikum fa tanqalibū khāsirīn(a).
اے برادران قوم! اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے، پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام و نامراد پلٹو گے"
📝 حاشیہ
٢٠٨) اس سے مراد یہ ہے کہ فلسطین کی سرزمین اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے یہودیوں کے لیے اس وقت تک مقدر فرمائی تھی جب تک وہ ایمان والے اور اللہ کے فرمانبردار رہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور انہوں نے آپ پر ایمان لانے سے انکار کر دیا، تو یہودیوں کے لیے یہ استحقاق ختم ہو گیا۔