سورۃ المائدہ
فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَـٰقَهُمْ لَعَنَّـٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَـٰسِيَةً ۖ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ ۙ وَنَسُوا۟ حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ ۖ فَٱعْفُ عَنْهُمْ وَٱصْفَحْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ
Fabimā naqḍihim mīṡāqahum la‘annāhum wa ja‘alnā qulūbahum qāsiyah(tan), yuḥarrifūnal-kalima ‘am mawāḍi‘ih(ī), wa nasū ḥaẓẓam mimmā żukkirū bih(ī), wa lā tazālu taṭṭali‘u ‘alā khā'inatim minhum illā qalīlam minhum fa‘fu ‘anhum waṣfaḥ, innallāha yuḥibbul-muḥsinīn(a).
پھر یہ اُن کا اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کر دیے اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کر کے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں، جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اُس کا بڑا حصہ بھول چکے ہیں، اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں (پس جب یہ اِس حال کو پہنچ چکے ہیں تو جو شرارتیں بھی یہ کریں وہ ان سے عین متوقع ہیں) لہٰذا انہیں معاف کرو اور ان کی حرکات سے چشم پوشی کرتے رہو، اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش رکھتے ہیں
📝 حاشیہ
٢٠٦) اس سے مراد آیت کے الفاظ میں آگے پیچھے کر کے، کچھ بڑھا کر یا کم کر کے تبدیلی کرنا، اور الفاظ کے حقیقی مفہوم اور اصل سمجھ کو توڑ مروڑ کر بدل دینا ہے۔