سورۃ الانعام
وَمِنَ ٱلْإِبِلِ ٱثْنَيْنِ وَمِنَ ٱلْبَقَرِ ٱثْنَيْنِ ۗ قُلْ ءَآلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلْأُنثَيَيْنِ أَمَّا ٱشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۖ أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ وَصَّىٰكُمُ ٱللَّهُ بِهَـٰذَا ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا لِّيُضِلَّ ٱلنَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
Wa minal-ibiliṡnaini wa minal-baqariṡnain(i), qul āżżakaraini ḥarrama amil-unṡayaini ammasytamalat ‘alaihi arḥāmul-unṡayain(i), am kuntum syuhadā'a iż waṣṣākumullāhu bihāżā, faman aẓlamu mimmaniftarā ‘alallāhi każibal liyuḍillan-nāsa bigairi ‘ilm(in), innallāha lā yahdil-qaumaẓ-ẓālimīn(a).
اور اسی طرح دو اونٹ کی قسم سے ہیں اور دو گائے کی قسم سے پوچھو، اِن کے نر اللہ نے حرام کیے ہیں یا مادہ، یا وہ بچے جو اونٹنی اور گائے کے پیٹ میں ہوں؟ کیا تم اُس وقت حاضر تھے جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا حکم تمہیں دیا تھا؟ پھر اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی طرف منسوب کر کے جھوٹی بات کہے تاکہ علم کے بغیر لوگوں کی غلط راہ نمائی کرے یقیناً اللہ ایسے ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا
📝 حاشیہ
٢٦٤) آیات 143 اور 144 میں حرام کیے جانے سے مراد یہ ہے کہ وہ جانور اس لیے حرام ٹھہرائے گئے تھے کیونکہ انہیں ان کے بتوں کی نذر کیا جانا تھا۔