سورۃ الانعام
وَلَوْ جَعَلْنَـٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنَـٰهُ رَجُلًا وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ
Wa lau ja‘alnāhu malakal laja‘alnāhu rajulaw wa lalabasnā ‘alaihim mā yalbisūn(a).
اور اگر ہم فرشتے کو اتارتے تب بھی اسے انسانی شکل ہی میں اتارتے اور اس طرح انہیں اُسی شبہ میں مبتلا کر دیتے جس میں اب یہ مبتلا ہیں
📝 حاشیہ
٢٣٨) اگر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتا، تو یقیناً اسے انسان کی شکل میں بھیجتا۔ ایسا اس لیے ہے کہ انسان فرشتوں کو (ان کی اصل شکل میں) نہیں دیکھ سکتے اور وہ یقیناً یہ کہتے کہ "یہ کوئی فرشتہ نہیں ہے، بلکہ ہماری طرح کا ایک انسان ہی ہے"۔ چنانچہ، وہ پھر بھی شک اور تذبذب میں ہی مبتلا رہتے۔