سورۃ الانعام
وَأَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَـٰنِهِمْ لَئِن جَآءَتْهُمْ ءَايَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا ۚ قُلْ إِنَّمَا ٱلْـَٔايَـٰتُ عِندَ ٱللَّهِ ۖ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَآ إِذَا جَآءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ
Wa aqsamū billāhi jahda aimānihim la'in jā'athum āyatul layu'minunna bihā, qul innamal-āyātu ‘indallāhi wa mā yusy‘irukum annahā iżā jā'at lā yu'minūn(a).
یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر کوئی نشانی ہمارے سامنے آ جائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے اے محمدؐ! ان سے کہو کہ "نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں" اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں
📝 حاشیہ
٢٥٧) مشرکین نے قسمیں کھائیں کہ اگر اللہ کی طرف سے کوئی معجزہ آ گیا تو وہ ضرور ایمان لے آئیں گے۔ اسی لیے مسلمانوں کو یہ امید تھی کہ کاش نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے اس معجزے کے نزول کی دعا فرمائیں۔ چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے مومنین کی اس امید کو رد فرما دیا۔