سورۃ الانعام
وَلَا تَطْرُدِ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِٱلْغَدَوٰةِ وَٱلْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُۥ ۖ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَىْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِم مِّن شَىْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
Wa lā taṭrudil-lażīna yad‘ūna rabbahum bil-gadāti wal-‘asyiyyi yurīdūna wajhah(ū), mā ‘alaika min ḥisābihim min syai'iw wa mā min ḥisābika ‘alaihim min syai'in fa taṭrudahum fa takūna minaẓ-ẓālimīn(a).
اور جو لوگ اپنے رب کو رات دن پکارتے رہتے ہیں او ر اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ پھینکو اُن کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کسی چیز کا بار اُن پر نہیں اس پر بھی اگر تم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے
📝 حاشیہ
٢٤٥) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند ایسے مومنین کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے جنہیں قریش کے سردار حقیر اور غریب سمجھتے تھے، تو قریش کے کچھ معززین آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے آئے۔ انہوں نے ان مومنین کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا اور آپ پر زور دیا کہ آپ ان مومنین کو اپنے پاس سے ہٹا دیں تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آرام سے بات کر سکیں۔ یہ آیت اس رویے پر تنبیہ کے طور پر نازل ہوئی۔