سورۃ الانعام
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ عَلَيْكُمْ سُلْطَـٰنًا ۚ فَأَىُّ ٱلْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِٱلْأَمْنِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
Wa kaifa akhāfu mā asyraktum wa lā takhāfūna annakum asyraktum billāhi mā lam yunazzil bihī ‘alaikum sulṭānā(n), fa ayyul-farīqaini aḥaqqu bil-amn(i), in kuntum ta‘lamūn(a).
اور آخر میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈروں جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لیے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ہے؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بے خوفی و اطمینان کا مستحق ہے؟ بتاؤ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو
📝 حاشیہ
٢٥٢) جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنی عظمت کی نشانیاں دکھا دیں تاکہ اللہ پر ان کا ایمان مزید پختہ ہو جائے (آیت ۷۵)، تو انہوں نے اپنی قوم کی طرزِ فکر اور منطق کا ساتھ دیتے ہوئے ان کی رہنمائی توحید کی طرف فرمائی۔