سورۃ الانعام
قُلْ هُوَ ٱلْقَادِرُ عَلَىٰٓ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ ۗ ٱنظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ
Qul huwal-qādiru ‘alā ay yab‘aṡa ‘alaikum ‘ażābam min fauqikum au min taḥti arjulikum au yalbisakum syiya‘aw wa yużīqa ba‘ḍakum ba'sa ba‘ḍ(in), unẓur kaifa nuṣarriful-āyāti la‘allahum yafqahūn(a).
کہو، وہ اِس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے دیکھو، ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں
📝 حاشیہ
٢٤٧) اوپر سے آنے والے عذاب سے مراد پتھروں کی بارش، بجلی کا گرنا اور اس جیسی دیگر چیزیں ہیں۔ جبکہ نیچے سے آنے والے عذاب سے مراد زلزلے اور سیلاب وغیرہ ہیں۔ ٢٤٨) اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی قدرت کی نشانیاں مختلف طریقوں اور گوناگوں اسالیب سے بیان فرماتا ہے۔ بعض علماء نے وضاحت کی ہے کہ اللہ کی قدرت کی یہ نشانیاں تنبیہ، قصص، احکام اور دیگر صورتوں میں ہوتی ہیں۔