سورۃ الاعراف
وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ۙ ٱللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ قَالُوا۟ مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
Wa iż qālat ummatum minhum lima ta‘iẓūna qaumā(n), allāhu muhlikuhum au mu‘ażżibuhum ‘ażāban syadīdā(n), qālū ma‘żiratan ilā rabbikum wa la‘allahum yattaqūn(a).
اور انہیں یہ بھی یاد لاؤ کہ جب اُن میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ "تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے " تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ "ہم یہ سب کچھ تمہارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس امید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں"
📝 حاشیہ
٢٩٤) یعنی یہ عذر پیش کرنے کے لیے کہ انہوں نے نصیحت اور ڈرانے کے متعلق اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حکم کو پورا کر دیا ہے۔