سورۃ الاعراف
وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَى ٱلْأَعْرَافِ رِجَالٌ يَعْرِفُونَ كُلًّۢا بِسِيمَىٰهُمْ ۚ وَنَادَوْا۟ أَصْحَـٰبَ ٱلْجَنَّةِ أَن سَلَـٰمٌ عَلَيْكُمْ ۚ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ
Wa bainahumā ḥijāb(un), wa ‘alal-a‘rāfi rijāluy ya‘rifūna kullam bisīmāhum, wa nādau aṣḥābal-jannati an salāmun ‘alaikum, lam yadkhulūhā wa hum yaṭma‘ūn(a).
ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک اوٹ حائل ہوگی جس کی بلندیوں (اعراف) پر کچھ اور لوگ ہوں گے یہ ہر ایک کو اس کے قیافہ سے پہچانیں گے اور جنت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ "سلامتی ہو تم پر" یہ لوگ جنت میں داخل تو نہیں ہوئے مگر اس کے امیدوار ہونگے
📝 حاشیہ
٢٧٣) لفظ "اعراف" دراصل "عُرف" کی جمع ہے، جس کا مطلب 'اونچی جگہ' یا 'معزز چیز' ہے۔ جنت اور دوزخ کے درمیان کی دیوار (اوٹ) کو اس کے بلند مقام کی وجہ سے "اعراف" کہا جاتا ہے۔