سورۃ الاعراف
۞ هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَٰحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا ۖ فَلَمَّا تَغَشَّىٰهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِۦ ۖ فَلَمَّآ أَثْقَلَت دَّعَوَا ٱللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ ءَاتَيْتَنَا صَـٰلِحًا لَّنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّـٰكِرِينَ
Huwal-lażī khalaqakum min nafsiw wāḥidatiw waja‘ala minhā zaujahā liyaskuna ilaihā, falammā tagasysyāhā ḥamalat ḥamlan khafīfan fa marrat bih(ī), falammā aṡqalad da‘awallāha rabbahumā la'in ātaitanā ṣāliḥan lanakūnanna minasy-syākirīn(a).
وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں نے مل کر اللہ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے
📝 حاشیہ
٢٩٩) یہ بات حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق نہیں ہے، بلکہ ان کی نسل (اولاد) کے ایک حصے کے بارے میں ہے۔