سورۃ الاعراف
وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوْمِهِۦ غَضْبَـٰنَ أَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِى مِنۢ بَعْدِىٓ ۖ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ۖ وَأَلْقَى ٱلْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُۥٓ إِلَيْهِ ۚ قَالَ ٱبْنَ أُمَّ إِنَّ ٱلْقَوْمَ ٱسْتَضْعَفُونِى وَكَادُوا۟ يَقْتُلُونَنِى فَلَا تُشْمِتْ بِىَ ٱلْأَعْدَآءَ وَلَا تَجْعَلْنِى مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
Wa lammā raja‘a mūsā ilā qaumihī gaḍbāna asifā(n), qāla bi'samā khalaftumūnī mim ba‘dī, a‘ajiltum amra rabbikum, wa alqal-alwāḥa wa akhaża bira'si akhīhi yajurruhū ilaih(i), qālabna umma innal-qaumastaḍ‘afūnī wa kādū yaqtulūnanī, falā tusymit biyal-a‘dā'a wa lā taj‘alnī ma‘al-qaumiẓ-ẓālimīn(a).
ادھر سے موسیٰؑ غصے اور رنج میں بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف پلٹا آتے ہی اس نے کہا "بہت بری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد! کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کر لیتے؟" اور تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھا ئی (ہارونؑ) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا ہارونؑ نے کہا "اے میری ماں کے بیٹے، اِن لوگوں نے مجھے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے پس تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے نہ شامل کر"
📝 حاشیہ
٢٨٦) اس سوال کا مقصد ان کی اس بے صبری پر سرزنش کرنا ہے جو انہوں نے اپنے رب سے مناجات کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی واپسی کا انتظار کرنے میں دکھائی، جس کے نتیجے میں ان کی قوم نے بچھڑے کا ایک بت بنا لیا تاکہ وہ اس کی اسی طرح عبادت کریں جیسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے۔