سورۃ الاعراف

وَسْـَٔلْهُمْ عَنِ ٱلْقَرْيَةِ ٱلَّتِى كَانَتْ حَاضِرَةَ ٱلْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِى ٱلسَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ ۙ لَا تَأْتِيهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَبْلُوهُم بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ

Was'alhum ‘anil-qaryatil-latī kānat ḥāḍiratal-baḥr(i), iż ya‘dūna fis-sabti iż ta'tīhim ḥītānuhum yauma sabtihim syurra‘aw wa yauma lā yasbitūn(a), lā ta'tīhim - każālika - nablūhum bimā kānū yafsuqūn(a).

اور ذرا اِن سے اُ س بستی کا حال بھی پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھی اِنہیں یاد دلاؤ وہ واقعہ کہ وہاں کے لوگ سبت (ہفتہ) کے دن احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن ابھر ابھر کر سطح پر اُن کے سامنے آتی تھیں اور سبت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں یہ اس لیے ہوتا تھا کہ ہم ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو آزمائش میں ڈال رہے تھے

📝 حاشیہ
٢٩٢) سمندر کے کنارے واقع اس بستی سے مراد "ایلہ" (ایلات) شہر ہے جو بحیرہ احمر کے ساحل پر، مدین اور کوہِ سینا کے درمیان واقع ہے۔ ٢٩٣) احکامات کے مطابق، انہیں سبت (ہفتے) کے دن کام کرنے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ وہ دن خاص طور پر عبادت کے لیے وقف تھا۔ یہ قانون اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے یہودیوں کی اپنی ہی درخواست پر ان کے لیے مقرر کیا تھا۔ اس دن انہیں مچھلی کا شکار کرنے سے منع کیا گیا تھا، لیکن ان میں سے کچھ لوگوں نے ایک مکارانہ حیلے سے اس کی خلاف ورزی کی۔ وہ (ہفتے کے دن) مچھلی کا شکار تو نہیں کرتے تھے، لیکن انہوں نے تالاب کھود رکھے تھے تاکہ پانی مچھلیوں سمیت ان میں آ جائے اور پھر وہ اگلے دن انہیں پکڑ لیتے تھے۔

تمام آیات 206 آیات
آج ہی پڑھنا شروع کریں

قرآن پڑھنا اپنے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنائیں۔ Quran Today آپ کو پریشانیوں کے بغیر پڑھنا جاری رکھنے میں مدد کرتا ہے، ایک آسان، تیز، نجی اور آرام دہ تجربے کے ساتھ۔