سورۃ الاعراف
وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۗ قَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ قَدْ جَآءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ فَأَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ وَٱلْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَـٰحِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
Wa ilā madyana akhāhum syu‘aibā(n), qāla yā qaumi‘budullāha mā lakum min ilāhin gairuh(ū), qad jā'atkum bayyinatum mir rabbikum fa auful-kaila wal-mīzāna wa lā tabkhasun-nāsa asy-yā'ahum wa lā tufsidū fil-arḍi ba‘da iṣlāḥihā, żālikum khairul lakum in kuntum mu'minīn(a).
اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا اس نے کہا "اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے تمہارے پاس تمہارے رب کی صاف رہنمائی آ گئی ہے، لہٰذا وزن اور پیمانے پورے کرو، لوگوں کو اُن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو، اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے، اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم واقعی مومن ہو
📝 حاشیہ
٢٧٦) مدین بنیادی طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان کی تیسری بیوی قطورہ سے بیٹے کا نام تھا۔ مدین نے حضرت لوط علیہ السلام کی صاحبزادی سے شادی کی۔ بعد میں لفظ "مدین" اس قبیلے کے لیے استعمال ہونے لگا جو مدین کی نسل سے تھا۔ یہ لوگ صحرائے سینا کے جنوب مشرق میں بحیرہ احمر کے ساحل پر، یعنی حجاز (بالخصوص تبوک، سعودی عرب) اور خلیج عقبہ کے درمیان رہتے تھے۔ ٢٧٧) یعنی وہ اصلاح جو انبیاء کرام کی لائی ہوئی شریعت اور احکامات کے ذریعے ہوئی اور جس کا سلسلہ ان کے جانشینوں نے جاری رکھا۔