سورۃ الاعراف

إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ يُغْشِى ٱلَّيْلَ ٱلنَّهَارَ يَطْلُبُهُۥ حَثِيثًا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتٍۭ بِأَمْرِهِۦٓ ۗ أَلَا لَهُ ٱلْخَلْقُ وَٱلْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

Inna rabbakumullāhul-lażī khalaqas-samāwāti wal-arḍa fī sittati ayyāmin ṡummastawā ‘alal-‘arsy(i), yugsyil-lailan-nahāra yaṭlubuhū ḥaṡīṡā(n), wasy-syamsa wal-qamara wan-nujūma musakhkharātim bi'amrih(ī), alā lahul-khalqu wal-amr(u), tabārakallāhu rabbul-‘ālamīn(a).

در حقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کیے سب اس کے فرمان کے تابع ہیں خبردار رہو! اُسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے بڑا با برکت ہے اللہ، سارے جہانوں کا مالک و پروردگار

📝 حاشیہ
٢٧٤) اللہ نے کائنات کو چھ دنوں (ادوار) میں پیدا کیا جس کا عمل کائنات کی تاریخ پر محیط ہے، جیسا کہ سورہ النازعات/79: 27‒33 میں بیان کیا گیا ہے۔ ٢٧٥) عرش پر مستوی ہونا (استواء علی العرش) اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے جس پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شانِ اقدس اور اس کی پاکی کے مطابق ایمان لانا واجب ہے۔

تمام آیات 206 آیات
آج ہی پڑھنا شروع کریں

قرآن پڑھنا اپنے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنائیں۔ Quran Today آپ کو پریشانیوں کے بغیر پڑھنا جاری رکھنے میں مدد کرتا ہے، ایک آسان، تیز، نجی اور آرام دہ تجربے کے ساتھ۔