سورۃ الاعراف
أَوَلَمْ يَنظُرُوا۟ فِى مَلَكُوتِ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍ وَأَنْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَدِ ٱقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ ۖ فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ
Awalam yanẓurū fī malakūtis-samāwāti wal-arḍi wa mā khalaqallāhu min syai'iw wa an ‘asā ay yakūna qadiqtaraba ajaluhum, fa bi'ayyi ḥadīṡim ba‘dahū yu'minūn(a).
کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے انتظام پر کبھی غور نہیں کیا اور کسی چیز کو بھی جو خدا نے پیدا کی ہے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا؟ اور کیا یہ بھی انہوں نے نہیں سوچا کہ شاید اِن کی مہلت زندگی پوری ہونے کا وقت قریب آ لگا ہو؟ پھر آخر پیغمبرؐ کی اِس تنبیہ کے بعد اور کونسی بات ایسی ہو سکتی ہے جس پر یہ ایمان لائیں؟