سورۃ الاعراف
وَٱتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَىٰ مِنۢ بَعْدِهِۦ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهُۥ خُوَارٌ ۚ أَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّهُۥ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا ۘ ٱتَّخَذُوهُ وَكَانُوا۟ ظَـٰلِمِينَ
Wattakhaża mūsā mim ba‘dihī min ḥuliyyihim ‘ijlan jasadal lahū khuwār(un), alam yarau annahū lā yukallimuhum wa lā yahdīhim sabīlā(n), ittakhażūhu wa kānū ẓālimīn(a).
موسیٰؑ کے پیچھے اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنا لیا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی کیا اُنہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے؟ مگر پھر بھی اُنہوں نے اسے معبود بنا لیا اور وہ سخت ظالم تھے
📝 حاشیہ
٢٨٥) انہوں نے سونے کا ایک بچھڑا (پتلا) بنایا۔ بعض مفسرین کے مطابق، گائے جیسی وہ آواز جو اس پتلے سے نکلتی تھی، وہ ہوا کے جھونکوں کے اس کے اندرونی خلا میں داخل ہونے کی وجہ سے تھی، جس کی تکنیک اس وقت سامری جانتا تھا۔ جبکہ دوسرے مفسرین نے یہ تفسیر کی ہے کہ وہ پتلا واقعی ایک جاندار بچھڑے کے جسم میں تبدیل ہو گیا تھا اور آواز نکالتا تھا۔