سورۃ الانفال
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ حَرِّضِ ٱلْمُؤْمِنِينَ عَلَى ٱلْقِتَالِ ۚ إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَـٰبِرُونَ يَغْلِبُوا۟ مِا۟ئَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّا۟ئَةٌ يَغْلِبُوٓا۟ أَلْفًا مِّنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ
Yā ayyuhan-nabiyyu ḥarriḍil-mu'minīna ‘alal-qitāl(i), iy yakum minkum ‘isyrūna ṣabirūna yaglibū mi'atain(i), wa iy yakum minkum mi'atuy yaglibū alfam minal-lażīna kafarū bi'annahum qaumul lā yafqahūn(a).
اے نبیؐ، مومنوں کو جنگ پر اُبھارو اگر تم میں سے بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو آدمی ایسے ہوں تو منکرین حق میں سے ہزار آدمیوں پر بھاری رہیں گے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے
📝 حاشیہ
٣١٦) وہ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ جنگ کی بنیاد عقیدے کے دفاع اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کے جذبے پر ہونی چاہیے۔ وہ تو محض جاہلی روایات کو برقرار رکھنے اور دیگر دنیاوی مقاصد کے لیے لڑ رہے تھے۔