سورۃ الانفال
فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ قَتَلَهُمْ ۚ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ رَمَىٰ ۚ وَلِيُبْلِىَ ٱلْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
Falam taqtulūhum wa lākinnallāha qatalahum, wa mā ramaita iż ramaita wa lākinallāha ramā, wa liyubliyal-mu'minīna minhu balā'an ḥasanā(n), innallāha samī‘un ‘alīm(un).
پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور تو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا (اور مومنوں کے ہاتھ جو اِس کام میں استعمال کیے گئے) تو یہ اس لیے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے، یقیناً اللہ سُننے والا اور جاننے والا ہے
📝 حاشیہ
٣٠٨) یہ واقعہ غزوة بدر سے متعلق ہے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب جنگِ بدر عروج پر تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "مجھے ایک مٹھی مٹی (یا کنکریاں) دو!" علی نے فوراً مٹی پیش کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مٹی دشمنوں کے چہروں کی طرف پھینکی، جس سے دشمن کا کوئی بھی شخص ایسا نہ بچا جس کی آنکھوں میں وہ مٹی نہ پڑی ہو۔ اسی وجہ سے وہ شکست خوردہ ہو کر ہلاک ہو گئے۔ (روایتِ طبرانی)۔